LSN News › Pakistan

Technology · Pakistan Bureau

کیا مصنوعی ذہانت انسانی سوچ کی پیشین گوئی کر سکتی ہے؟

پیلنٹیر کے سی ای او الیکس کارپ نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں پر نئے سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی انسانی رویے کی بہتر پیشین گوئی میں مدد دے سکتی ہے۔

LSN Pakistan · 15 October 2026

امریکی ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی پیلنٹیر کے چیئرمین اور سی ای او الیکس کارپ نے حالیہ تبصروں میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے انسانی سوچ اور رویے کی پیشین گوئی کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کارپ کے مطابق، جدید AI سسٹمز بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے انسانی فیصلوں اور رویوں میں پیٹرن تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ تکنیک مختلف شعبوں میں کاروباری اور حکومتی فیصلے لینے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم، کارپ نے ان صلاحیتوں کے استعمال میں اخلاقی اور قانونی حدود کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ اور شفاف انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

پیلنٹیر جیسی کمپنیوں کی AI ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے ٹیک انڈسٹری میں نئے سوالات و بحثوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ماہرین کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ تکنیک بہت طاقتور ہے، لیکن اس کے نتائج سے متعلق شفافیت اور نگرانی انتہائی ضروری ہے۔