Technology · Pakistan Bureau
بغیر حفاظتی اقدامات کے مصنوعی ذہانت کے نقصانات فوائد سے زیادہ ہو سکتے ہیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سربراہ نے خطرناک انتباہ جاری کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر مناسب حفاظتی نظام نہ بنائے جائیں۔
LSN Pakistan ·

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی قیادت نے مصنوعی ذہانت کی بے قابو ترقی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اگر اس ناشمولی ٹیکنالوجی پر کوئی نگرانی نہ کی گئی تو اس کے منفی اثرات معاشی اور سماجی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایف ایم آئی کے سربراہ نے تاکید کی ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کو منظم کرنے کے لیے مضبوط پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔
موجودہ صورتحال میں بسیرے ممالک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کوئی واضح قانونی ڈھانچہ موجود نہیں، جس سے اس کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایف ایم آئی کے اہلکاروں کا خیال ہے کہ اگر وقت رہتے اقدامات نہ کیے گئے تو معاشی عدم مساوات میں اضافہ، ملازمت میں کمی، اور ڈیٹا کی حفاظت میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
خطے کے ممالک کے لیے یہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے کماحقہ فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی اس چیلنج کا جواب دیا جا سکتا ہے۔