World · Pakistan Bureau
سائنس دانوں نے انسانی جسم میں براہ راست ڈی این اے میں ترمیم کی
جینیاتی سائنس میں ایک بہت بڑی کامیابی کے طور پر، محققین نے پہلی بار انسانی جسم کے اندر براہ راست ڈی این اے میں تبدیلی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ طریقہ کار وراثتی بیماریوں کے علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔
LSN Pakistan ·
جدید جینیاتی تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک نیا سنگ میل حاصل کیا ہے جہاں انہوں نے کسی زندہ انسانی جسم میں براہ راست ڈی این اے کی ترمیم کرنے میں کامیابی پائی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب اس طرح کی ترمیم براہ راست جسم کے اندر کی گئی ہے، جو جینیاتی طب میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
پرائم ایڈٹنگ کے نام سے معروف یہ تکنیک موجودہ جین تھراپی کے طریقوں سے مختلف ہے۔ اس طریقے میں ڈی این اے کے خاص حصوں کو ہٹایا یا تبدیل کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ جین کو مکمل طور پر ہٹایا جائے۔ یہ زیادہ محفوظ اور درست انجام تک پہنچانے والا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
مختلف وراثتی بیماریوں کے علاج میں یہ تکنیک بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نہ صرف موجودہ بیماریوں کے علاج میں مدد دے سکتا ہے بلکہ مستقبل میں کئی دوسری جینیاتی خرابیوں کا حل بھی پیش کر سکتا ہے۔
اس کامیابی کے باوجود، ماہرین نے احتیاط سے کہا ہے کہ اس تکنیک کو آگے بڑھانے سے پہلے مزید تحقیق اور سائنسی جانچ کی ضرورت ہے۔ وہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ مکمل طور پر محفوظ اور موثر ہے۔