Technology · Pakistan Bureau
برطانیہ کے سائبر سیکیورٹی سربراہ: AI سے چلنے والے حملے دو سال میں ممکن
برطانیہ کے سائبر سیکیورٹی کے ذمہ دار حکام نے انتباہ دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس میلویئر حملے آنے والے دو سالوں میں حقیقت بن سکتے ہیں۔ یہ خطرہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور عوامی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
LSN Pakistan ·
برطانیہ کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ نے سوالات کے دوران کہا ہے کہ آئی ٹی شعبہ کو مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کا سامنا کرنے کی تیاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے چوبیس مہینوں میں ایسے حملے کا امکان بہت زیادہ ہے جو خود بخود اور خود مختار طریقے سے کام کریں۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق روایتی میلویئر سے ہٹ کر یہ نئے حملے زیادہ پیچیدہ اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے ساتھ، حملہ آوروں کے پاس اپنے نقصان دہ پروگراموں کو بہتر بنانے کے لیے نئے اوزار ہوں گے۔
برطانیہ کی حکومت اور نجی شعبہ دونوں کو اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی حفاظتی حکمت عملی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے سربراہ نے تاکید کی ہے کہ تنظیمات اپنے ڈیٹا اور نیٹ ورکس کو مزید محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔
یہ انتباہ اس وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں سائبر حملے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تنظیموں کو اپنی حفاظتی نظام کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا اور کارمندوں کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں تربیت دینی چاہیے۔